دی ۔اس میں کچھ آسان اور مختصر وظیفے بھی لکھے ہوئے تھے۔ میں نے اس میں سے تین وظائف منتخب کئے۔ تادمِ تحریر بھی ان کی عموماً پابندی کرتا ہوں۔مگر اتفاق دیکھئے کہ اس کے مؤلف کے بارے میں مجھے کچھ معلوم نہ تھا۔ مجھے فقہی مسائل میں بھی دلچسپی تھی ۔ ایک مرتبہ ایک کتاب انتہائی خستہ حالت میں نہ جانے کہاں سے دستیاب ہوئی۔ نام دیکھا تو ''نماز کا جائزہ''،میں نے فوراً پڑھ ڈالی اور اسی وقت اپنی نمازدُرُست کر لی۔ اس کتاب سے نماز کے علاوہ دیگر کئی مسائل جو عوام میں غلط مشہور تھے، معلوم ہوئے۔ خصوصا ایک مسئلہ مجھے اب تک یاد ہے جسے پڑھ کر میں سب کو بتاتا پھرتا تھا کہ بچے کے پیشاب کو پاک سمجھنے کا مسئلہ غلط ہے، درست مسئلہ یہ ہے کہ بچے کا پیشاب بھی ناپاک ہوتا ہے چاہے وہ ایک دن کا ہی ہو۔ غالباً اسی کتاب سے سیکھ کر میں لوگوں کو درست وضو کرنا بھی سکھایا کرتا تھا۔