Brailvi Books

فیضانِ امیرِ اہلسنّت
67 - 102
دی ۔اس میں کچھ آسان اور مختصر وظیفے بھی لکھے ہوئے تھے۔ میں نے اس میں سے تین وظائف منتخب کئے۔ تادمِ تحریر بھی ان کی عموماً پابندی کرتا ہوں۔مگر اتفاق دیکھئے کہ اس کے مؤلف کے بارے میں مجھے کچھ معلوم نہ تھا۔ مجھے فقہی مسائل میں بھی دلچسپی تھی ۔ ایک مرتبہ ایک کتاب انتہائی خستہ حالت میں نہ جانے کہاں سے دستیاب ہوئی۔ نام دیکھا تو ''نماز کا جائزہ''،میں نے فوراً پڑھ ڈالی اور اسی وقت اپنی نمازدُرُست کر لی۔ اس کتاب سے نماز کے علاوہ دیگر کئی مسائل جو عوام میں غلط مشہور تھے، معلوم ہوئے۔ خصوصا ایک مسئلہ مجھے اب تک یاد ہے جسے پڑھ کر میں سب کو بتاتا پھرتا تھا کہ بچے کے پیشاب کو پاک سمجھنے کا مسئلہ غلط ہے، درست مسئلہ یہ ہے کہ بچے کا پیشاب بھی ناپاک ہوتا ہے چاہے وہ ایک دن کا ہی ہو۔ غالباً اسی کتاب سے سیکھ کر میں لوگوں کو درست وضو کرنا بھی سکھایا کرتا تھا۔
    میٹرک کے بعد میں نے لاہورکے ایک کالج میں داخلہ لیا۔اسی کالج سے ملحق ہاسٹل میں میری رہائش تھی ۔ایک کمرے میں ہم چار نوجوان رہتے تھے ۔ پڑھائی کے علاوہ آپس میں ہماری بحثیں بھی ہوتی رہتی تھیں ۔ایک بار ہمارے درمیان یہ بحث چھڑگئی کہ سرمہ ڈالنا سنت تو ہے مگر اس کا سنت طریقہ کیا ہے؟ میں نے کہا کہ میں جمعہ کی چھٹی میں گھر جاؤں گا اور اپنے شہر کی مرکزی مسجد کے خطیب صاحب سے پوچھ کرآؤں گا۔چنانچہ میں گھر پہنچا اور اپنے شہر کی مرکزی جامع مسجد میں جمعے کی نماز ادا کرنے کے بعد خطیب صاحب سے ملا اور ان سے سرمہ ڈالنے کی سنت کے بارے
Flag Counter