Brailvi Books

فیضانِ امیرِ اہلسنّت
66 - 102
انفرادی کوشش سے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے والے اس مَدَنی اسلامی بھائی کو کیسی برکتیں نصیب ہوئیں۔ ہمیں بھی چاهئے کہ جہاں ہم دیگر مسلمانوں کو نیکی کی دعوت پیش کرتے ہیں وہیں اپنے عزیز واقارب پر بھی انفرادی کوشش کیا کریں ۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
 (17) سعادتوں کی معراج کی داستان
    مرکزالاولیاء(لاہور)کے ایک قریبی شہرنارنگ منڈی کے اسلامی بھائی نُورُ المصطفیٰ العطاری المدنی(عمر تقریباً31سال) کا بیان کچھ یوں ہے:میں ایک اسکول میں پڑھتا تھا ۔ ہمارا گھرانا پکا سنی، قدرے مذہبی اور دنیاوی اعتبار سے تعلیم یافتہ تھا۔ والد صاحب کو مطالعہ کا بہت شوق تھا ۔ یوں مطالعے کا ذوق اور سنیت کا شعور گویا مجھے ورثے میں مِلا۔ ذوقِ علمی وشعورِ سنّیت کے اِس اِمتزاج نے مجھے لڑکپن ہی میں اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن کی عظمت و رفعت سے آشنا کردیا۔ یوں میں بڑی محبت وعقیدت سے سرکارِ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ الرحمن کے دریوزہ گروں میں شامل ہوگیا۔ فیضانِ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ الرحمن کی برکت سے میں علماء اہلسنّت کثرھم اللہ تعالیٰ سے بڑی محبت کرتا تھا اور بد مذہبوں سے سخت متنفر تھا۔
     ہمارے محلے کی مسجد میں ایک سبز عمامے والے صاحب بطورِ خادم یا مؤذن آئے ۔وہ ہمارے ساتھ بڑی ملنساری سے ملاقات کیا کرتے ۔ ایک مرتبہ انہوں نے مجھے ''مدینے کی دُھول'' نامی( جیبی سائز کی) نعتوں کی کتاب تحفے میں
Flag Counter