شوق پیدا ہوا ۔ چُنانچہ میں نے اُن سے ہاں کردی ۔ وہ اسلامی بھائی 20رمضان المبارک کو مجھے لینے کے لئے میرے گھر پہنچ گئے اور زادِ اعتکاف تیار کرنے میں میری مدد کی ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ! اس اسلامی بھائی کی انفرادی کوشش کی برکت سے میں ضیاء کوٹ میں ابوحنیفہ مسجد( مرے کالج روڈ )میں ہونے والے دعوتِ اسلامی کے اجتماعی اعتکاف میں شریک ہو گیا ۔ دورانِ اعتکاف ہونے والے رقّت انگریزبیانات اور پر سوز دعاؤں نے میرے دل میں خوفِ خدا اور عشقِ مصطفےٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی شمع روشن کر دی۔ مجھے توبہ نصیب ہوئی اورمیں نے پُختہ عزم کرلیا کہ اب تاحیات دعوت اسلامی کے مہکے مہکے مَدَنی ماحول سے وابَستہ رہوں گا۔یوں میں مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوکر سنّتوں کی خدمت کرنے لگا ۔اس دوران امیراہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے دامنِ کرم سے وابستہ ہوکر عطّاری بن گیا ۔ پھر مجھ پر ایک اسلامی بھائی نے انفرادی کوشش کی اور دعوتِ اسلامی کےجامعۃ المدینہ میں درس نظامی (عالم کورس)کرنے کے لئے میرا ذہن بنایا۔میں 1998 میں گھر والوں سے اجازت لینے کے بعد بابُ المدینہ کراچی آگیا اورجامعۃ المدینہ (فیضانِ عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ گلستان جوہر) میں داخلہ لیا ۔2005، ۱۴۲۶ھ میں فارغ التحصیل ہونے کے بعد دعوتِ اسلامی کے جامعۃ المدینہ(ضیاکوٹ )میں 12ماہ تک تدریس کرنے کی سعادت پائی۔اِس وقت میں جامعات المدینہ پنجاب ضیائی کا صوبائی خادِم (ذمّہ دار) ہوں۔امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ پر کروڑوں رحمتیں نازل ہوں کہ