دیکھے بغیر چین نہ آتا ۔ اسکول سے واپس آکر ویڈیوگیمز کی دُکان میں گُھسا رہتا ،جہاں کے مخرب اخلاق ماحول نے مجھے مزید بگاڑ دِیا ۔کیا صبح کیا شام ،گناہوں سوا میرا کچھ کام نہ تھا ۔ میں بڑا خوش تھا کہ خُوب مزے کی زندگی بسر ہورہی ہے۔مگرآہ! مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ عیش کوشیاں میری آخرت برباد کر رہی ہیں ۔ میری برباد جوانی نیکیوں سے اس طرح آباد ہونا شروع ہوئی کہ رمضان المبارک میں ہماری قریبی گاؤں کے ایک نوجوان (جو کلین شیوتھا) نے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں دس دِن کا اجتماعی اعتکاف کیا ۔ جب وہ وہاں سے لَوٹا تو اس کے سر پر سبز عمامہ شریف تھا اور چہرے پر داڑھی نمودار ہوچکی تھی ۔وہ اسلامی بھائی ہمارے گاؤں میں بھی تشریف لاتے اور مجھے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت دیا کرتے ۔ وہ12ماہ تک تقریباًہر جمعرات اجتماع میں شریک ہونے کی ترغیب دیتے مگر میں کترا کر نکل جاتا۔بلکہ ایک دن تومیرے والدنے اُس بھلے مانس مبلغ کو خوب سُنائیں کہ میرے بیٹے کو اجتماع کی دعوت نہ دیا کرو ،میں اِسے کسی مذہبی تنظیم سے وابستہ نہیں ہونے دوں گا مگر وہ مبلّغ طیش میں آنے کے بجائے خاموش رہے ۔