| فیضانِ امیرِ اہلسنّت |
ابوبلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ میرے خواب میں تشریف لے آئے اور مجھے اپنے قدم مبارَک سے ہلکی سے ٹھوکر رسید کی ۔صبح جب میں بیدار ہوا تو معاملہ کچھ کچھ میری سمجھ میں آچکا تھا ۔پھر میں نے اپنے علاقائی نگران کو خواب سُنایا تو انہوں نے بھی فرمایا : کہ اَمیر اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ غالباً آپ کودعوتِ اسلامی کے حوالے سے
یَکْ دَرْ گِیْر مُحْکَمْ گِیْر
(یعنی ایک دروازہ پکڑو اور مضبوطی کے ساتھ پکڑو) کی تاکید فرما رہے تھے۔ اُس دن کے بعد میں اُن بدعقیدہ لوگوں کے سائے سے بھی دُور بھاگنے لگا ۔امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ سے بیعت ہو کر عطّاری بھی بن گیا ۔
پھر میں 1996 میں باب المدینہ کراچی پہنچا اور دعوتِ اسلامی کے جامعۃ المدینہ (گودھرا کالونی باب المدینہ کراچی ) میں داخلہ لے لیا ۔درسِ نظامی کے دوران ایک مسجد میں امامت کی بھی سعادت ملی ۔ علاقائی مشاورت میں مَدَنی اِنعامات کا ذمہ دار بھی رہا ۔فیضانِ سنّت کا درس دیتا اورعلاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت میں بھی شریک ہوتا تھا ۔ فارغ التحصیل ہونے پر ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ نے اپنے ہاتھوں سے دستارِ فضیلت (بصورت سبز عمامہ شریف ) میرے سر پر سجائی ۔ اس کے بعد دوسال تک میں امامت کرتا رہا ۔ اس دوران مَدَنی قافلہ کورس بھی کیا ۔ پھر مفتی دعوتِ اسلامی الحاج ،الحافظ القاری حضرت علامہ مولانا ابوعُمر محمد فاروق العطاری المدنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کی انفرادی کوشش سے دعوتِ اسلامی کے ادارے المدینۃ العلمیۃ سے وابستہ ہوگیا ۔ تادمِ