راولپنڈی(پنجاب ،پاکستان )کے ایک اسلامی بھائی ندیم اشرف العطاری المدنی(عمرتقریباً 34سال) کا بیان کچھ یوں ہے:میں نویں جماعت کا طالب علم تھا ۔ ہمارے علاقے میں ایک ہی مسجد تھی جو بدمذہبوں کی تھی ۔ عقائد کے بارے میں دُرست معلومات نہ ہونے کی وجہ سے میں اُنہی کی مسجد میں نَماز کی ادائیگی کے لئے جایا کرتا ۔ ایک مرتبہ اُن کے کسی فرد نے مجھے روکا تو میں ان کے ساتھ بیٹھ گیا ۔ پھر وہ باہرنکلے تو میں بھی اُن کے ساتھ تھا۔ میں اُن کے اجتماع میں بھی گیا ۔عقائد میں ناپختگی کی وجہ سے میں اُنہیں اچھا سمجھنے لگا ۔ مگر مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ نام نہاد لوگ میرے ایمان کے درپے ہوچکے ہیں۔ میری خوش قسمتی کہ کچھ ہی عرصے بعد ہم نے وہ علاقہ چھوڑ کر کسی اور جگہ رہائش اختیار کر لی ۔ وہاں ایک مسجد میں نَماز پڑھنے گیا تو سبز عمامہ شریف والے ایک اِسلامی بھائی سے مُلاقات ہوئی ۔ انہوں نے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وارسنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت دی۔ میں اجتماع میں شریک ہوا ۔ وہاں پر سنّتوں بھرا بیان سُنا ، اجتماعی طور پر ذکر اللہ عَزَّوَجَلَّ کیا ، رقّت انگیز دُعا میں شرکت کی ۔ جب میں وہاں سے لَوٹا تو میرا دِل اگرچہ دعوتِ اسلامی کی طرف مائل ہوچکا تھا ۔مگر میں شش وپنج کا شکار تھا کہ نہ جانے وہ لوگ صحیح ہیں یا دعوتِ اسلامی والے ۔ چُنانچہ ایک عرصے تک میں دوکَشتیوں کا سُوار بنا رہا ۔ مختلف کتابوں کا مطالعہ بھی کیا مگر کسی حتمی نتیجے تک نہ پہنچ پاتا ۔ایک رات میں سویا تو میرا نصیب چمک اُٹھا ۔ شیخِ طریقت امیرِ اہلِسنّت بانئ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا