وادیوں سے آنسوؤں کے چشمے بہنے لگے ۔میں نے اپنے گناہوں سے توبہ کی اور اپنے سر پر سبز سبز عمامہ شریف سجا لیا ۔مَدَنی قافلے سے واپس آنے کے بعد میں نے بُرے دوستوں کی صحبت سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور میرے شب وروز دعوتِ اسلامی کے پاکیزہ مَدَنی ماحول میں بسر ہونے لگے ۔پھر فیضانِ مُرشد کی بارش مجھ پر چھما چھم برسی اور میں نے جامعۃ المدینہ بابُ المدینہ کراچی کے شعبہ درسِ نظامی میں داخلہ لے لیا۔ 2000 میں امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے ہاتھوں دستارِ فضیلت اپنے سر پر سجائی ۔ (تادمِ تحریر) مجھے جامعۃ المدینہ میں تدریس کرتے ہوئے تقریباً11سال ہوگئے ہیں ۔اس کے ساتھ ساتھ ڈویژن مشاورت میں رابطہ بالعلماء والمشائخ کی ذمہ داری بھی ملی ہوئی ہے ۔