بابُ المدینہ کراچی کے ایک مَدَنی اسلامی بھائی محمد اشرف العطاری المدنی (عمرتقریباً 32سال) اپنی داستانِ عشرت کے خاتمے کے اَحوال کچھ یوں بیان کرتے ہیں: دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے سے پہلے میں گناہوں کی وادی میں سرگرداں تھا۔ افسوس!کہ میرا اٹھنا بیٹھنا بھی ایسے لوگوں میں تھا جوطرح طرح کے گناہوں میں ملوّث تھے ۔ ہم سب دوست ملکر فلمیں دیکھا کرتے تھے ۔ ایسی ہی ایک شام تھی،میں اپنے دوست کے گھر سے فلم دیکھ کر گھر کی طرف رواں دواں تھا کہ راستے میں سبز عمامے والے ایک اسلامی بھائی نے مجھے روک لیا اور انفرادی کوشش کرتے ہوئے عاشقانِ رسول کے مَدَنی قافلے میں سفر کرنے کی درخواست کی ۔ میں نے نفس کی پُکار پر بہانہ بناتے ہوئے کہا : میں اکیلا کیسے جاؤں ، میرا کوئی دوست بھی تو ساتھ ہو۔ اس اسلامی بھائی نے مٹھاس سے تربترلہجے میں جواب دیا: میں ہوں نا آپ کا دوست ۔ اُن کا محبت بھرا انداز دیکھ کر مجھ سے اِنکار نہ ہوسکا۔ چُنانچہ میں راہِ خداعَزَّوَجَلَّ کا مسافر بن گیا ۔مَدَنی قافلے میں میرے شب وروز عبادت میں گزرے ،میں گناہوں کی آلودگی سے دُور رہا ۔ اللہ ورسول عَزَّوَجَلَّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا ذکر میرے کانوں میں رَس گھولنے لگا ۔ میرے دل ودماغ کو تازگی ملی ۔ آخری دن جب رخصت سے پہلے اختتامی دُعا مانگی گئی تو میری آنکھوں کی