Brailvi Books

فیضانِ امیرِ اہلسنّت
55 - 102
مجھے خُود بھی یاد نہیں)،اگر تم اور تمہارے پیر صاحب (یعنی امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ) اُس کا علاج کردیں تو میں اجتماع میں ضرور شرکت کروں گا ۔
    خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! اُسی رات امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ میرے خواب میں تشریف لے آئے۔آپ دامت برکاتہم العالیہ مجھے ایک وسیع وعریض میدان میں لے گئے جہاں ایک بہت بڑاگھنی چھاؤں والا درخت بھی تھا ۔آپ دامت برکاتہم العالیہ نے مجھ سے فرمایا :یہاں ہمارا تین روزہ بین الاقوامی سنّتوں بھرا اجتماع ہوگا ، آپ بھی اس میں شرکت کیجئے گا ۔ پھر فرمایا :اب بتائيے کہ آپ کو کیا پریشانی ہے ، میں نے جیب سے ایک پرچہ نکالا جس پر وہ بیماری لکھی ہوئی تھی اور امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کو پڑھ کر سُنایا ۔ آپ دامت برکاتہم العالیہ نے میرے کندھے پر شفقت سے ہاتھ رکھا اور تسلی دیتے ہوئے فرمایا:ان شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ صبح ہوتے ہی آپ کی یہ بیماری دُور ہوجائے گی اورآپ ہمیشہ کے لئے اسے بھول بھی جائیں گے تاکہ آپکو کبھی ندامت نہ اُٹھانی پڑے۔'' جب صبح میں بیدار ہوا تو حلفیہ کہتا ہوں کہ میری بیماری دُور ہوچکی تھی ۔ پھر امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے کہنے ے مطابق میں اس بیماری کو بھول بھی گیا ۔ تادمِ تحریر مجھے یاد نہیں کہ وہ کون سی بیماری تھی ۔ اس واقعے سے میں اتنا متأثر ہوا کہ میں نہ صرف دعوتِ اسلامی کے نہ صرف ہفتہ وار اجتماع میں شریک ہوا بلکہ بین الاقوامی اجتماع میں بھی شامل ہوا ۔میں امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے دامن سے وابستہ ہوکر عطّاری بھی بن گیا اور نیکی کی دعوت کی دُھومیں مچانے لگا ۔ میرے دونوں
Flag Counter