کراچی کو خیر آباد کہنا پڑا ۔اس دوران جامعۃ المدینہ نیوکراچی سے گلستان جوہر منتقل ہوچکا تھا ۔شہرِ مُرشِد سے دُور ہونے پر آہیں بھرتا ہوا نمناک آنکھوں کے ساتھ جامعۃ المدینہ (گلستانِ جوہربابُ المدینہ)کے درودیوار چوم کر گھر واپس آگیا ۔ کچھ عرصہ گھر پر رہ کر علاج کروایا پھرتعلیم جاری رکھنے کی غرض سے جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ مرکزالاولیاء لاہور جا پہنچا ۔ یہاں میرے اساتذہ کرام دامت فیوضہم نے میرے ساتھ علمی ومالی طور پر بہت تعاوُن کیا ۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے ۔مرکز الاولیاء لاہور میں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ ایک عالمِ دین کے پاس درجہ سادِسہ (یعنی چھٹے درجے)تک پڑھنے کے بعد زہے قسمت دوبارہ بابُ المدینہ کراچی آنا نصیب ہوگیا ۔پڑھنے کے ساتھ ساتھ میں پڑھانا بھی شروع کرچکاتھا۔یہاں میں نے جامعۃ المدینہ (عالَمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ) میں درسِ نظامی مکمل کیا اور 2004ء میں میرے سوہنے سوہنے پیر ومرشدامیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ نے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں اپنے مبارک ہاتھوں سے مجھ گنہگار کے سر پردستارِ فضیلت سبز سبز عمامہ شریف کی صورت میں سجائی ۔ (تادمِ تحریر2008)تقریباً 7سال تک جامعۃ المدینہ میں بطورِ مُدرِّس خدمت سرانجام دینے کے علاوہ مجھے دعوتِ اسلامی کے علمی ،تحقیقی اور اشاعتی ادارے المدینۃ العلمیۃ(بابُ المدینہ کراچی) میں شعبہ ذمّہ دار کی حیثیت سے تقریباً 4سال سے سنّتوں کی خدمت کی سعادت اورمجلس مدنی مذاکرہ و مجلس المدینۃ العلمیۃ (دعوتِ اسلامی) کی رُکنیت حاصل ہے ۔اس کے علاوہ بھی میرے مُرشدکریم