دامت برکاتہم العالیہ کے ہاتھوں عمامہ شریف سر پر سجانے کی خواہش پوری نہ ہوسکی ، چُنانچہ میں نے آپ دامت برکاتہم العالیہ کے ہاتھوں سے مَس ہونے (یعنی چھوجانے) والے سبز سبز عمامے شریف کوہی اپنے سر پر سجا لیا ۔ سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کے بعد امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کی بارگاہ میں پہلی مرتبہ حاضری ہوئی تو میں نے مکتوب کے جواب کے لئے لکھ کرعرض کی ۔آپ دامت برکاتہم العالیہ نے اِشاروں سے بتایا کہ جوابی مکتوب بذریعہ ڈاک بھیج دیا گیا ہے۔ میں بابُ المدینہ کراچی کی پُر کیف فضاؤں سے رخصت ہوکر اپنے علاقے میں پہنچا تو جوابی مکتوب میرا منتظر تھا ۔ دھڑکتے دل کے ساتھ مکتوب پڑھنا شروع کیا تو امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ نے لکھا تھا :''آپ کے جذبات لائق تحسین ہیں مگر میں آپ کو والدین کی اطاعت کا مشورہ دیتا ہوں ۔'' اس کے بعد مزید نصیحتیں اور نیک اعمال کرنے کی ترغیبیں تھیں۔یہ خط پڑھنے کے بعد میں نے مُرشِد کے فرمان پر اپنی خواہش کوقُربان کردیا اوریہ ذہن بنا لیا کہ والدین اجازت دیں گے توہی درسِ نظامی کرنے جاؤں گا ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ! مُرشِد کی بات ماننے کی برکت سے ایک یادو سال کے اندر اندر گھر والوں نے متفقہ طور پر مجھے درسِ نظامی کرنے کے لئے بابُ المدینہ کراچی جانے کی اجازت دے دی ۔میرے تومَن کی مُراد بَرآئی،میں خوشی سے پھولے نہ سماتا تھا ۔ میں مدینۃ المرشد بابُ المدینہ کراچی پہنچا اور جامعۃ المدینہ (گودھرا کالونی نیوکراچی)میں داخلہ لے کر علمِ دین سیکھنے میں لگ گیا ۔درجہ اُولی مکمل ہونے کو تھا کہ شدید بیمار ہونے کی وجہ سے مجھے بابُ المدینہ