ناکام رہا ۔ اِس ناکامی نے میرا دِل توڑ کر رکھ دیا،میں مغموم ومَلُول قریبی مسجد میں پہنچ گیا اور بارگاہِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم میں اِستغاثہ پیش کیا۔ دِل میں آئی کہ کیوں نہ گھر سے بھاگ کر راہِ علم پر چلنا شروع کردوں مگر حِکمت نے یہ بات سمجھائی کہ ایسا کرنے سے میری پیاری تحریک دعوتِ اسلامی اور امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ پر انگلیاں اٹھیں گی اور یہ مجھے ہرگز گوارا نہ ہوگا۔لہٰذا! میں نے خُود پر قابو پالیا۔
غالباً 1996 میں ہمارے شہر سے اسلامی بھائیوں کا ایک قافلہ بابُ المدینہ کراچی کے بابُ الاسلام سندھ سطح پر ہونے والے سنّتوں بھرے اجتماع میں شریک ہونے کے لئے روانہ ہوا ۔گھر والوں سے اجازت لے کر میں بھی عاشقانِ رسول کے اس قافلے کا حصہ بن گیا ۔ سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کے علاوہ میری یہ بھی نیت تھی کہ میں اپنے پیرو مرشِدامیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے ہاتھوں سبز سبز عمامہ اپنے سر پر سجاؤں گا (داڑھی شریف پہلے ہی سے چہرے پر موجود تھی)اور انہیں درسِ نظامی کے لئے اپنے شوق اور اس میں حائل رُکاوٹوں کے بارے میں بتا کر مدد کی درخواست کروں گا پھرآپ دامت برکاتہم العالیہ جوحکم ارشاد فرمائیں گے اس پر سختی سے عمل کروں گا ۔ چُنانچہ میں نے امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے نام ایک طویل مکتوب لکھا اور بابُ المدینہ پہنچنے کے بعد آپ کے شہزادے الحاج مولانا احمد عبید رضا العطاری المَدَنی مدظلہ العالی (جو اُن دنوں کم سِن تھے)کے ذریعےامیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کو بھِجوایا ۔کسی سبب سے آپ