کچھ دنوں کے بعد پھر اُسی دوست کے محلے میں جانا ہوا تو وہاں ایک اسلامی بھائی نے اپنی دُکان پر شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمدالیاس عطّاؔر قادِرِی دامت برکاتہم العالیہ کے بیان کا کیسٹ چلا رکھا تھا ۔ چند جملے میرے کان میں بھی پڑے ،لہجے کی تاثیر کانوں کے راستے میرے دل میں اُتر گئی ۔ چُنانچہ دوسرے دن میں اُس اسلامی بھائی کی دکان پر گیا اور اس سے وہ کیسٹ سننے کے لئے مانگی ۔اس نے بخوشی دے دی ۔ وہ کیسٹ لے کر میں قریبی گلی میں اپنے چچا کے گھر گیا اور مہمان خانے میں اکیلے بیٹھ کر اس کیسٹ کے بیان کو سنُا جس کا نام تھا ''قبر کی پہلی رات ۔'' جوں جوں میں بیان سنتا گیا اپنے اَندازِ زندگی پر ندامت بڑھتی چلی گئی ،مجھے آخرت کی فکر کھانے لگی اور اشکوں کے دھارے میرے رُخساروں پے بہہ نکلے۔ امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ میں کچھ ایسی تاثیر تھی کہ وہیں بیٹھے بیٹھے میں نے 2مرتبہ اس کیسٹ کو سُنااور یہ نیت کر کے اٹھا کہ ان شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ اب مجھے بھی نیک بننا ہے ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں نے نمازوں کی پابندی کرنا شروع