Brailvi Books

فیضانِ امیرِ اہلسنّت
45 - 102
سے میں نے ہوش سنبھالا ، اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ والِدصاحب (اللہ تعالیٰ اُن کے مرقد پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے)کی تربیت کی برکت اور علمائے اہلسنّت دامت فیوضھم کی نعلین کے صدقے بچپن ہی سے میرے ذہن میں یہ بیٹھا ہوا تھا کہ ہم سُنِّی ہیں ،اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن کے ماننے والے ہیں جواِن کا نہیں وہ ہمارا نہیں،اگرچہ عقائد ِ اہلسنّت کی تفصیلات مجھے معلوم نہ تھیں ۔ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ رب العزت کو بھی میں بعدِنمازِجمعہ پڑھے جانے والے سلام کے حوالے سے جانتا تھا کہ یہ انہوں نے لکھا ہے ۔

    وقت یونہی گزرتا رہا ۔ایک دن میں نَمازِ عصر پڑھنے کے لئے مسجد میں گیا۔ باہر نکلتے وقت ایک عاشقِ رسول (جو میرے شناسا تھے)نے میری خیر خواہی کرتے ہوئے مجھے روکا اور فیضانِ سنّت کے درس میں بیٹھنے کی درخواست کی ۔ میں اِنکار نہ کرسکا اور درس میں شریک ہوگیا۔ سفید لباس میں ملبوس سبز عمامے والے ایک اسلامی بھائی نے فیضان سنّت سے درس دینا شروع کیا ۔ جسے سُن کر شاید میں پہلی مرتبہ حقیقی معنوں میں اپنی آخرت کے لئے فکر مند ہوا ۔ درس کے بعد اس اسلامی بھائی نے مجھ پر انفرادی کوشش کرتے ہوئے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت دی ،میں نے حامی بھر لی۔ جمعرات کو اپنے دوست کے ہمراہ اجتماع میں شریک ہوا ۔ وہاں میں نے مبلغِ دعوتِ اسلامی کا بیان سُنا جو بڑا دلنشین اور پُر تاثیر تھا۔ پھر ذکرُ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی صداؤں اوررو رو کر کی جانے والی رِقّت انگیز دُعا نے مجھے بَہُت متأثر کیا ۔ پھر جب سب نے کھڑے ہوکر صلوٰۃ و سلام