Brailvi Books

فیضانِ امیرِ اہلسنّت
47 - 102
کردی ۔اس کے بعد بھی میں نے وقتاً فوقتاًامیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے سنّتوں بھرے بیان کے دیگر کیسٹ بیانات بھی سنے۔ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شریک ہوتا رہا ،کبھی غیر حاضری بھی ہوجاتی ۔
    اسی دوران(غالباً1993ء میں) امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ سردارآباد (فیصل آباد)بیان کے لئے تشریف لائے ۔ہم اپنے شہر سے قافلے کی صورت میں اس اجتماع میں شریک ہوئے ۔مجھے امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ سے محبت تو تھی مگر دل میں کچھ تَردُّد تھا کہ نہ جانے امام احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن کے بارے میں اِن کے کیا نظریات ہیں ،میں کہیں غلط لوگوں کے ہتھے تو نہیں چڑھ گیا۔ دورانِ بیان کسی آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ نے جب اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا نام بڑی عقیدت سے القابات کے ساتھ کچھ اس طرح لیا کہ''میرے آقا اعلیٰحضرت ، اِمامِ اَہلسنّت ، ولی نِعمت ، عظیمُ البَرَکت، عَظِیم المَرْتَبت، پروانہِ شمعِ رِسالت ، مُجَدِّدِ دِین ومِلَّت ، حامیِ سُنّت ، ماحِیِ  بِدعت، عَالِمِ شَرِیْعَت ،پیرِ طریقت، باعثِ خَیْروبَرَکت، حضرتِ علَّامہ مولیٰنا الحاج الحافظ القاری الشّاہ امام احمد رَضا خان علیہ رحمۃ الرحمن اپنے شہرہ آفاق ترجمۂ قراٰن کنزالایمان میں اس آیت کا ترجمہ یوں کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔''تو اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میرے سارے شکوک رفع ہوگئے کہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے اتنی عقیدت رکھنے والا سُنِّی کے سوا کوئی اور نہیں ہوسکتا اور میرا ذہن بن گیا کہ اب امیراہلسنّت
Flag Counter