پنجاب(پاکستان) کے شہر گوجرہ کے ایک اسلامی بھائی محمد آصف العطاری المدنی (عمر تقریباً 31سال)کا بیان ہے کہ غالباً1989ء کی بات ہے کہ میں اِسکول میں نویں جماعت کا اِسٹوڈنٹ تھا ۔ گھر میں مَدَنی ماحول نہ ہونے کی وجہ سے میں بھی سنّتوں بھرے ماحول سے دُورتھا ۔ چُنانچہ نمازوں کی پابندی نہ کرنا، فلمیں ڈرامے دیکھنا، گانے باجے سننااور اپنا وقت فضولیات ولغویات اور دیگر برائیوں میں برباد کرنا میرامعمول تھا ۔بڑا افسر بننے کا خواب بچپن ہی سے میری آنکھوں میں سجا دیا گیا تھا۔ چُنانچہ میں اکثر وبیشتر اس خواب کی عملی تعبیر پانے کی فکر میں مبتلا رہتا مگر افسوس ! کہ میں فکرِ آخرت سے غافل تھا،اُخروی کامیابیوں کی تمنا سے میرا دل ایک طرح سے خالی تھا ۔میری سعادتوں کی معراج کا سفر اس طرح شروع ہوا کہ میں اپنے ایک دوست سے ملنے اس کے محلے میں جایا کرتا تھا ۔ وہاں میں نے چند اسلامی بھائیوں کو دیکھا جن کے سر پر سبز سبز عمامے تھے ۔ معلومات کیں تو پتا چلا کہ یہ دعوتِ اسلامی والے ہیں۔ عین شباب میں مجھے ان کا یہ رُوپ بہت اچھا لگا لیکن میں یہ سوچ کر ان کے قریب ہونے سے کترا گیا کہ نامعلوم یہ کس مکتبۂ فکر کے لوگ ہیں؟ کیونکہ جب