Brailvi Books

فیضانِ امیرِ اہلسنّت
43 - 102
 (10)مدرسۃ المدینہ کا مدرِّس عالِم کیسے بنا؟
    باب المدینہ(کراچی)کے ایک اسلامی بھائی محمد حنیف امجدی العطاری (عمر تقریباً34سال) کا بیان کچھ یوں ہے:میری عمر 12برس تھی جب میں گلزارِ حبیب مسجد(سولجربازار) میں ہونے والے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وارسنّتوں بھرے اجتماع میں شریک ہوا ۔ اجتماع کے مناظر مثلاً بیان،ذکر ،دعا اور سیکھنے سکھانے کے حلقے میرے ذہن پر ایسے نقش ہوئے کہ پھر کوئی اور تصویر خیال میں نہ ابھر سکی ۔ الحمدللہ عزوجل میں دعوتِ اسلامی سے وابستہ ہوگیا اور ترقی کی منزلیں طے کرتا کرتا مدرسۃ المدینہ میں بطورِ مدرِّس خدمتِ دین کرنے لگا ۔ 1992ء میں سبز مارکیٹ میں قائم ہونے والے جامعۃ المدینہ کا افتتاح ہوا تو میں بھی جامِ علم کے طلبگاروں میں شامل ہوگیا ۔ مختلف جامعات میں راہِ علم کا سفر طے کرتے کرتے میں فارغ التحصیل ہوا اور خود کو 12ماہ کے لئے مَدَنی مرکز کی خدمت میں پیش کردیا ۔ بیرونِ ملک سفر کرنے والے عاشقانِ رسول کے مَدَنی قافلے میں سفر کی سعادت بھی ملی ۔پھر کنزالایمان مسجد (بابری چوک باب المدینہ کراچی ) میں امامت کے فرائض سرانجام دینے لگا ۔ ساتھ ساتھ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کام میں بھی مصروفِ عمل رہا ۔پیرومُرشِد امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کی نگاہِ کرم کے صدقے تادمِ تحریر میں پاکستان انتظامی کابینہ وباب المدینہ مشاورت کے ساتھ ساتھ مجھے اسلامی بہنوں کے مَدَنی کاموں ، جامعۃ المدینہ للبنات و(باب المدینہ سطح کے)مدرسۃ المدینہ للبنات کے خادِم
Flag Counter