العطاری المدنی(عمر تقریباً28سال)کا بیان ہے :میں نویں کلاس میں پڑھتا تھا اور حصولِ دُنیا کی جستجو میں مگن تھا ۔ میرے علاقے کے اسلامی بھائیوں سے میری راہ ورسم بڑھی تو وہ مجھے دعوت دے کر مسجد لے گئے۔ جب میں نماز پڑھ کر مسجد سے نکلنے لگا تو ایک خیرخواہ اسلامی بھائی (جو مسجد کے دروازے کے قریب کھڑے تھے )نے مجھ سے درس میں شرکت کی التجاء کی ۔ میں درسِ فیضانِ سنّت میں بیٹھ گیا ۔ یہ میری دعوتِ اسلامی سے رفاقت کی ابتداء تھی ۔پھر میں نے اسلامی بھائیوں کی انفرادی کوشش سے مدرسۃ المدینہ (بالغان ) میں پڑھنا شروع کردیا ۔ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی جہاں میرے جذبے کو مدینے کے 12چاند لگ گئے۔ چند ہفتوں بعد امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کا بیان بذریعہ ٹیلیفون ریلے ہوا ۔ جسے تمام شرکائے اجتماع نے بڑے غور سے سُنا ۔بیان کے بعد امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ نے اجتماعی توبہ اور بیعت کروائی تو میں بھی عطّاری بن گیا ۔ پھر جوں جوں وقت گزرتا گیا میں مَدَنی ماحول میں رچتا بستا گیا ۔