امیرِ اہلسنّت کی عمامے سے محبت
شیخِ طریقت، امیرِ اہلِسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رضویدَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالیَہ عمامہ شریف سے بے حد محبت فرماتے ہیں آپ دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالیَہ ہمیشہ عمامہ شریف ہی سجائے رکھتے ہیں اور نماز تو باعمامہ ہی ادا فرماتے ہیں آپ کی عمامہ شریف سے محبت کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک مرتبہ رمضان المبارک میں آپ نماز کے لئے جونہی وضو کر کے فارغ ہوئے ادھر اقامت ہو چکی تھی اور عمامہ شریف سجانے کا وقت نہ مل پایا ، آپ دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالیَہ عمامہ شریف سینے سے لگائے مسجد میں حاضر ہوئے ، عمامہ شریف سامنے رکھا اور تکبیرِ اولیٰ پانے کے لئے جماعت میں شریک ہو گئے۔ امام صاحب نے جونہی سلام پھیرا آپ دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالیَہ فوراً کھڑے ہوئے اور ہاتھوں ہاتھ عمامہ شریف سجا لیا۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیرِاہلسنّتدَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالیَہ کے اس واقعے سے ہمیں یہ مدنی پھول ملا کہ عمامہ شریف سجا کر نماز پڑھنا اگرچہ زیادتیٔ ثواب کا باعث ہے لیکن اگر جماعت قائم ہو گئی ہو تو اب ’’اَلاَہَمُّ فَالاَہَمُّ‘‘ (یعنی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گرمی میں پہننے کا اکہرا اور جاڑے میں دوہرا روئی دار۔