حضرت علامہ سید محمد بن جعفر کَتَّانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالی عَلَیْہ لکھتے ہیں : عارف باللہ حَفنِی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں کہ ان احادیث میں تین عدد (پچیس ، ستر، اور دس ہزار ) کا ذکر فرمایا گیا اس سے معین عدد مراد نہیں بلکہ کثرتِ ثواب مراد ہے۔ (الدعامۃ فی احکام سنۃ العمامۃ ، ص ۹)
اعلی حضرت اور سنّتِ عمامہ
اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنّت ، مجدِّدِ دین و مِلَّت شاہ امام احمد رضا خان عَلَیہ رَحمَۃُاللہِ الرَّحمٰن عمامے سے اس قدر محبت فرماتے تھے کہ کبھی فرض نماز بغیر عمامے کے ادا نہ فرمائی ، چنانچہ خَیرُالاَذکِیَاء ، صدر مدرس الجامعۃ الاشرفیہ ہند حضرت علامہ محمد احمد مِصباحی مُدَّظِلُّہُ العَالِی لکھتے ہیں : امام احمد رضا (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالی عَلَیْہ ) باوجودیکہ بہت حارّ (گرم) مزاج تھے مگر کیسی ہی گرمی کیوں نہ ہو ہمیشہ دستار (عمامے) اور اَنگَرکھے(1) کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے خصوصاً فرض تو کبھی صرف ٹوپی اور کُرتے کے ساتھ ادا نہ کیا۔ (امام احمد رضا اور ردِ بدعات و منکرات، ص ۶۲)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بِاللہِ تَعَالی اور مسلمانوں کے عمامے قصداً اتروا دینا اور اسے ثواب نہ جاننا قریب ہے کہ ضروریاتِ دین کے انکار اور سنّتِ قطعیہ متواترہ کے استخفاف کی حد تک پہنچے ایسے شخص پر فرض ہے کہ اپنی ان حرکات سے توبہ کرے اور از سرنو کلمہ اسلام پڑھے اور اپنی عورت کے ساتھ تجدید نکاح کرے۔(فتاویٰ رضویہ ،۶/۲۱۵تا۲۲۰ ملخصاً)
1…اچکن کی وضع کا ایک بَرکا لباس جسے گھنڈی کے ذریعے گلے کے پاس جوڑ دیتے ہیں ،