Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
96 - 479
طرح کی کوئی اور چیز پہن کر نماز پڑھی تو وہ اس فضیلت کا حقدار نہیں ہو گا۔ 
(فیض القدیر، حرف الصاد، ۴/۲۹۷، تحت الحدیث: ۵۱۰۱) 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مُتَّہَم ہے محض راوی کے مجہول ہونے سے اس حدیث کوچھوڑنے کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا حتی کہ فضا ئل میں قابلِ استدلال ہی نہ رہے چہ جائے کہ وہ موضوع ہو ۔ اس کے بعد آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالی عَلَیْہِِ نے کئی ایسی روایات نقل فرمائیں کہ جن کے راویوں پر محدثین نے شدید جرح فرمائی بعض کوکَثِیرُ الخَطَا اور فَاحِشُ الوَہم کہا مگر محدثین نے ایسی روایات کو ناصرف باقی رکھا بلکہ فضا ئلِ اعمال کے باب میں انہیں معتبر بھی جانا۔(ان مَجرُوح روایات کو فضائلِ اعمال میں معتبر جاننے اور فضائلِ عمامہ کی روایات کو موضوع قرار دینے والوں کے جواب میں )اعلیٰ حضرت عَلَیہِ رَحمَۃُ رَبِّ العِزَّت فرماتے ہیں : میری سمجھ سے باہر ہے یہی قول (کہ یہ مجروح روایات فضائل میں معتبر ہیں )عمامہ والی حدیث میں کیوں نہیں کیا گیا حالانکہ یہ حدیث بھی فضائلِ اعمال سے متعلق ہے اور اس سے بارگاہِ الہٰی کے ادب پر شوق دلایا گیا ہے اور اس میں کوئی بھی ایسی بات نہیں جسے شرع و عقل محال قرار دیتی ہو بلکہ اس میں کوئی راوی بھی ایسا نہیں جسے موضوعات کا راوی قرار دیا گیا ہو، تو اس روایت پر بُطلان بلکہ موضوع ہونے کا حکم (محض اس بنا پر کہ بعض روایات  ایسے راویوں سے ہیں جنہیں حافظ ابن حجر نہیں جانتے یا فلاں فلاں نے ان کا ذکر نہیں کیا)کیسے درست ہوسکتا ہے ؟اپنی عقل سے روایات کوموضوع یا ضعیف قرار دینے والوں کو تنبیہ کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت عَلَیہِ رَحمَۃُ رَبِّ العِزَّت فرماتے ہیں : جاہل اگر حدیث کو محض بہوائے نفس موضوع کہے واجبُ التعزیرہے اور کتبِ معُتَمَدہ فقہیہ کو نہ ماننا جہالت وضَلالت اور اس حدیث کے بیان کرنے والے پر لعنت کا اِطلاق خود اس کے لئے سخت آفت کہ بحکم احادیثِ صحیح جولعنت غیر مستحق پر کی جاتی ہے کرنے والے پر پلٹ آتی ہے وَالعَیَاذُ