Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
95 - 479
کی شرح میں فرماتے ہیں : حدیث شریف میں جو عمامے کا فرمایا گیا ہے اس سے مراد وہ عمامہ ہے کہ جسے عرفِ عام میں عمامہ کہا جاتا ہے ۔ اگر کسی نے ٹوپی یا اسی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کا لفظ لکھا ہے جو صحیح کا مُخَفَّف ہے، یعنی ان کے نزدیک یہ حدیث صحیح ہے۔ نیزآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالی عَلَیْہ نے اسی کتاب کی ابتداء میں اس بات کی تصریح بھی فرمائی ہے کہ میں اس میں موضوع روایات درج نہیں کروں گا۔ (جامع صغیر ، ص۵)
2…   سیدی اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنّت ،مجدد دین و ملت شاہ امام احمد رضا خان عَلَیہ رَحمَۃُ الرَّحمٰن، اُستَاذُالمُحَدِّثِینحضرت علامہ مفتی وصی احمد مُحدِّثِ سُورَتی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی  کی جانب سے اس حدیث کے موضوع یا ضعیف ہونے کے متعلق پوچھے گئے سوال کاجواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں :حق یہ ہے کہ یہ حدیث موضوع نہیں۔ (کیونکہ) اس کی سند میں نہ کوئی وَضَّاع ہے نہ مُتَّہَم بِالوَضَع نہ کوئی کَذَّاب نہ مُتَّہَم بِالکِذب نہ اُس میں عقل یا نقل کی اصلاً ًمخالفت لاجرم اُسے اِمَامِ جَلِیل خَاتِمُ الحُفَّاظ جَلَالُ المِلَّۃِ وَالدِّین سُیُوطِی نے ’’جَامِع صَغِیر‘‘ میں ذکر فرمایا جس کے خطبہ میں ارشاد کیا تَرَکْتُ القِشْرَ، وَاَخَذْتُ اللُّبَابَ، وصُنْتُہٗ عَمَّاتَفَرَّدَ بِہٖ وَضَّاعٌ اَوْکَذَّابٌ میں نے اس کتاب میں پوست چھوڑ کر خالص مغز لیاہے اور اسے ہر ایسی حدیث سے بچایا جسے تنہا کسی وَضّاع یا کَذّاب نے روایت کیا ہے۔(جامع صغیر ، ص۵) 
	حَافِظ (اِبنِ حَجَر عَسقَلَانِی عَلیْہ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی )نے لسان (لِسَانُ المِیْزَان) میں (اس حدیث پر کلام کرتے ہوئے ) فرمایا: یہ حدیث مُنکَر بلکہ مَوْضُوْع ہے ۔ اعلیٰ حضرت عَلَیہِ رَحمَۃُ رَبِّ العِزَّت اس کاجواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں : اس روایت میں ایسی کسی چیز کا بیان نہیں جسے عقل وشرع محال گردانے (جانے) اور نہ ہی اس کی سند میںوَضَّاع ، کَذَّاب اور