کیا تجھے ایسی حدیث کی خبر نہ دوں جو تجھے پسند ہو، میری طرف سے روایت کرے اور اسے بیان کرے۔ میں نے عرض کیا کیوں نہیں ، تو حضرت سیّدنا سالم بن عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُم نے فرمایا میں اپنے والد ماجد حضرت سیّدنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما کے حضور حاضر ہوا تو وہ عمامہ شریف باندھ رہے تھے، جب باندھ چکے تو میری طرف اِلتِفات کرکے فرمایا: تم عمامے کو دوست رکھتے ہو؟ میں نے عرض کی کیوں نہیں ! فرمایا: اسے (یعنی عمامے کو) دوست رکھو عزّت پاؤ گے اور جب شیطان تمہیں دیکھے گا تم سے پیٹھ پھیر لے گا۔ میں نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کو فرماتے سنا کہ عمامے کے ساتھ ایک نفل نماز خواہ فرض بے عمامہ کی پچیس نمازوں کے برابر ہے اور عمامہ کے ساتھ ایک جمعہ بے عمامہ کے ستّر جمعوں کے برابر ہے۔ پھر حضرت سیّدنا ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما نے فرمایا: اے فرزند! عمامہ باندھ ! کہ فرشتے جمعہ کے دن عمامے باندھ کر آتے ہیں اور سورج ڈوبنے تک عمامے والوں پر سلام بھیجتے رہتے ہیں (1) (2)۔ (تاریخ ابنِ عساکر، ۳۷/۳۵۵ واللفظ لہ ، جامع صغیر، حرف الصاد ، الجز الثانی، ص ۳۱۴، حدیث:۵۱۰۱)
حضرت علامہ عبد الرء وف مناوی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی اس حدیث پاک
1… امام جلال الدین سیوطی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی نے یہ حدیث نقل کرنے کے بعد ’’ صح‘‘