Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
93 - 479
کی شرح میں فرماتے ہیں : عمامہ باندھ کر پڑھی گئی نمازیں ننگے سر پڑھی جانے والی نمازوں سے اس لئے افضل ہیں کہ دراصل نماز بادشاہِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ کے رُوبرو ادا کی جاتی ہے اور بغیر زیب و زینت اور خوبصورتی کے اُس کی بارگاہ میں حاضر ہونا خلافِ ادب ہے ۔ (فیض القدیر، حرف الرائ، ۴/۴۹ ، تحت الحدیث:۴۴۶۸) 
{2}ایک روایت میں خَیْرٌ کے بجائے اَفضَلُ کے الفاظ ہیں۔ (فردوس الاخبار ،باب الراء ، فصل رکعتان ، ۱/۴۱۰، حدیث:۳۰۵۴) 
باعمامہ نماز دس ہزار نیکیوں کے برابر
{3}حضرت  سیّدنا اَنَس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم فرماتے ہیں : الصَّلاۃُ فِی العِمَامَۃِ تَعدِلُ بِعَشَرَۃِ آلافِ حَسَنَۃٍ یعنی عمامہ باندھ کر پڑھی گئی نماز دس ہزار نیکیوں کے برابر ہے۔
(فردوس الاخبار، باب الصاد، ۲/۳۱، حدیث:۳۶۲۱ مختصراً) 

باعمامہ نماز پچیس بے عمامہ نمازوں کے مساوی
{4}حضرت  سیّدنا میمون بن مہران رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حدیث بیان کی کہ میں حضرت سیّدنا سالم بن عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُم کی خدمت میں حاضر ہواتو انہوں نے حدیث اِملا کرائی پھر میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اے ابوایوب!