فرمایا۔ (کنزالعمال، کتاب المعیشۃ والعادات، فرع فی العمائم،الجز :۱۵، ۸/۱۳۳، حدیث: ۴۱۱۳۷ مختصراً)
شیاطین عمامے نہیں باندھتے
{22} حضرت سیّدنا امام جلال الدین سیوطی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی حدیث پاک نقل فرماتے ہیں : رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: تَعَمَّمُوا فَاِنَّ الشَّیاطِینَ لاَ تَتَعَمَّمُ یعنی عمامے باندھو ! بے شک شیاطین عمامے نہیں باندھتے۔ (لباب الحدیث ، الباب الثانی عشر فی فضائل العمائم ، ص ۲۱)
{23} حضرت سیّدنا رُکانہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کو فرماتے سنا: فَرْقُ مَا بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْمُشْرِکِینَ الْعَمَائِمُ عَلَی الْقَلاَنِس یعنی ہم میں اور مشرکوں میں ٹوپیوں پر عمامے باندھنے کا فرق ہے۔ (ابوداؤد، کتاب اللباس،باب فی العمائم، ۴/۷۶، حدیث: ۴۰۷۸)
کیا ٹوپی پہننا مشرکین کا طریقہ ہے؟
خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، صدرالشریعہ، بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’بعض نے حدیث کا یہ مطلب بیان کیا کہ صرف ٹوپی پہننا مشرکین کا طریقہ ہے، مگر یہ قول صحیح نہیں کیونکہ مشرکینِ عرب بھی عمامہ باندھا کرتے تھے۔ ‘‘(بہارِ شریعت، ۳/۴۱۹)