رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم نے عمامے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: فرشتوں کے تاج ایسے ہی ہوتے ہیں۔ (کنز العمال، کتاب المعیشۃ والعادات، آداب التعمم، الجز :۱۵، ۸/۲۰۵، حدیث: ۴۱۹۰۶)
عمامہ باندھنا فِطرت ہے
{20}حضرت سیّدنا رُکانہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم فرماتے ہیں میری اُمت ہمیشہ فِطرت پر رہے گی جب تک وہ ٹوپیوں پر عمامے باندھیں گے ۔ (کنز العمال، کتاب المعیشۃ والعادات، فرع فی العمائم، الجز :۱۵، ۸/۱۳۳، حدیث: ۴۱۱۴۰)
حضرت علامہ مُلّا علی قاری عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ البَارِی ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں : فِطرت ایسی قدیم سنّت کو کہتے ہیں کہ جسے تمام انبیاء کرام عَلَیہِمُ السَّلَامنے اِختیار کیا ہو اور تمام شریعتوں میں اس پر عمل کیا گیا ہو ، گویا وہ ایسی طبعی چیز ہے کہ سب کی پیدائش اسی پر ہوئی ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب اللباس، باب الترجل، ۸/۲۰۸، تحت الحدیث:۴۴۲۰)
عمامہ باعثِ عزّت
{21} حضرت سیّدنا خالد بن مَعدان عَلَیہ رَحمَۃُ الرَّحمٰن مُرسلًا روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اِنَّ اللہَ تَعَالٰی اَکرَمَ ہٰذِہِ الْاُمَّۃَ بِالعَصَائِبِ یعنی بیشک اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس امت کو عماموں سے مُکَرَّم