Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
88 - 479
اکثر عماموں والے تھے۔ یہی روایت حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہا سے بھی مروی ہے ۔ (تاریخ ابن عساکر، ۲۲/۸۱ ، کنزالعمال، کتاب الفضائل ،الباب الرابع فی القبائل وذکرہم الخ الجز :۱۲، ۶/۲۰، حدیث: ۳۳۸۸۸) 
{17} حضرت سیّدنا عبدُالاعلیٰ بن عَدِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ نبیٔ پاک، صاحبِ لولاک  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم نے حضرت سیّدنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْھَہُ الکَرِیم کو بلا کر آپ کے سر پر عمامہ شریف باندھا جس کا شملہ آپ کی پیٹھ پر تھا پھر فرمایا: ہٰکَذَا فَاعتَمُّوا! فَاِنَّ العِمَامَۃَ سِیمَاالاسلامِ وَھِی حَاجِزَۃٌ بَیْنَ الْمُسْلِمِینَ وَالْمُشْرِکِینَ یعنی عمامہ اس طرح باندھو! بے شک عمامہ اسلام کی علامت (یعنی نشانی )ہے اور یہ مسلمانوں اور مشرکوں میں فرق کرنے والا ہے۔ (کنز العمال، کتاب المعیشۃ والعادات، آداب التعمم، الجز :۱۵، ۸/۲۰۵، حدیث:۴۱۹۰۴) 
{18}حضرت علامہ عبد الرء وف مناوی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی روایت نقل فرماتے ہیں کہ عمامے مسلمانوں اور کافروں کے درمیان اِمتیازی علامت ہیں۔ 
(کنوز الحقائق، حرف العین، ۱/۴۰۰،حدیث:۴۹۳۹) 
فرشتوں کے تاج
{19}حضرت  سیّدنا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْھَہُ الکَرِیم سے روایت ہے کہ