عمامہ مسلمانوں اور غیر مسلموں میں
فرق کرنے والا
{15}حضرت سیّدنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْھَہُ الکَرِیم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم نے غَدِیر خُم کے دن میرے سر پر عمامہ باندھا اور اس کا شملہ میری پشت پر لٹکا دیا اور فرمایا: اِنَّ اللہَ اَمَدَّنِی یَوْمَ بَدْرٍ وَحُنَیْنٍ بِمَلاَئِکَۃٍ یَعْتَمُّونَ ہَذِہِ الْعِمَّۃَ وَقَالَ اِنَّ الْعِمَامَۃَ حَاجِزَۃٌ بَیْنَ الْکُفْرِ وَالِایمَان یعنی بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ نے بدر اور حنین کے دن میری مدد فرمائی ایسے فرشتوں سے جو یہ عمامے باندھے ہوئے تھے، بے شک عمامہ کفر و ایمان کے درمیان فرق کرنے والا ہے۔ (سنن الکبری للبیہقی، کتاب السبق والرمی، باب التحریض علی الرمی، ۱۰/۲۴، حدیث:۱۹۷۳۶، مسند طیالسی، احادیث علی بن ابی طالب، ص ۲۳، حدیث:۱۵۴)
تھی بدر میں دستار فرشتوں کے سروں پر
باندھے ہوئے آئے تھے مددگار عمامہ
{16}حضرت سیّدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ نبیٔ کریم ، رء وف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: رَاَیتُ اَکثَرَ مَن رَاَیتُ مِنَ المَلائِکَۃِ مُتَعَمِّمِین یعنی میں نے جن فرشتوں کو دیکھا ہے ان میں