rکی مخالفت کرو (کہ وہ عمامہ نہیں باندھتے)۔
(شعب الایمان، باب فی الملابس الخ ، فصل فی العمائم، ۵/۱۷۶، حدیث:۶۲۶۱)
عمامہ باندھنے کی ترغیب
{14}حضرت سیّدنا عُبادہ بن صامِت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ نبیٔ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم نے فرمایا: عَلَیْکُمْ بِالْعَمَائِمِ فَاِنَّہَا سِیمَا الْمَلَائِکَۃِ وَاَرْخُوالہَا خَلْفَ ظُہُورِکُمْ یعنی تم پر عمامے لازم ہیں بے شک عمامے ملائکہ کی علامت ہیں اور عمامے کا شملہ پیٹھ کے پیچھے لٹکاؤ۔‘‘یہی روایت حضرت سیّدنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُما سے بھی مروی ہے۔ (شعب الایمان،باب فی الملابس ، فصل فی العمائم، ۵/۱۷۶، حدیث:۶۲۶۲ واللفظ لہ، معجم کبیر، باب العین، عبد اللہ بن عمر بن خطاب، ۱۲/۲۹۲، حدیث:۱۳۴۱۸)
اس حدیث پاک کے تحت حضرت علامہ سیِّد محمد بن جعفر کَتَّانی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی لکھتے ہیں : عارف باللہ حَفنِی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں کہ عمامے فرشتوں کی نشانی ہیں ، بدر کے روز فرشتے زرد عمامے سجائے ، شملے لٹکائے نازل ہوئے تھے ۔ مزید فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم امتیوں سے فرشتوں کی صفات سے مُتَّصِف ہونے کا تقاضا فرما رہے ہیں۔
(الدعامۃ فی احکام سنۃ العمامۃ، ص ۸)