صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اَلعَمَائِمُ تِیجَانُ العَرَب فَاِذَا وَضَعُوا الْعَمَائِمَ وَضَعَ اللہُ عِزَّہُمیعنی عمامے عرب کے تاج ہیں ، پس جب وہ (یعنی عرب ) عمامے اتار دیں گے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کی عزت کو ختم فرما دے گا۔
(فردوس الاخبار، باب العین، ۲/۹۱، حدیث:۴۱۰۹)
حضرت علامہ عبد الرء وف مناوی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’عماموں کو تاج اس لئے فرمایا ہے کہ یہ تاج کے قائم مقام ہیں۔‘‘ (فیض القدیر، حرف العین، ۴/۵۱۵، تحت الحدیث:۵۷۲۴)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یقیناً عمامہ شریف ایسی عزت ، مرتبے اور شان والی چیزہے کہ جو شخص عمامہ شریف کی پابندی کرتا ہے وہ بھی عزت، مرتبے اور شان والا ہو جاتا ہے ، کیونکہ نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم نے اسے عربوں اور مسلمانوں کا تاج فرمایا ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنے تاجوں (عماموں ) کی حفاظت کے لئے انہیں سر پر سجانا چاہئے۔
{13} حضرت سیّدنا خالد بن مَعدان عَلَیہ رَحمَۃُ الرَّحمٰن مرسلًا روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم صدقے کے کچھ کپڑے لے کر تشریف لائے اور انہیں صحابۂ کرام عَلَیہِمُ الرِّضوَان میں تقسیم فرما کر ارشاد فرمایا: اِعْتَمُّوا خَالِفُوا عَلی الاُمَمِ قَبْلَکُمْ یعنی عمامے باندھو اگلی امتوں (یہود و نصاریٰ )