باندھو تمہاراوقار بڑھے گا اور جو عمامہ باندھے اس کے لئے ہر پیچ پر ایک نیکی ہے اور جب (بلا ضرورت یا ترک کے قصد پر) اتارے تو ہر اتارنے پر ایک خطا ہے یا جب (بضرورت بلا قصدِ ترک بلکہ باارادہ معاودت(1)) اتارے تو ہر پیچ اتارنے پر ایک گناہ اترے۔ دونوں معنی محتمل ہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم والحدیث اشد ضعفا فیہ ثلثۃ مترکون متھمون عمرو بن الحصین عن ابی علاثۃ عن ثویر (فتاویٰ رضویہ ، ۶/۲۱۴)
عمامے ترک کر دینے کا نقصان
{11} حضرت سیّدنا عمران بن حُصین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم فرماتے ہیں : اَلعَمَائِمُ وَقَارٌ لِّلمُؤمِن وَ عِزٌّ لِّلعَرَبِ فَاِذَا وَضَعَتِ العَرَبُ عَمَائِمَھا وَضَعَت عِزَّھا یعنی عمامے مسلمانوں کے وقار اور عرب کی عزت ہیں تو جب عرب عمامے باندھنا چھوڑ دیں گے تواپنی عزت اتار دیں گے۔ (کنزالعمال، کتاب المعیشۃ والعادات، فرع فی العمائم، الجز:۱۵، ۸/۱۳۳، حدیث: ۴۱۱۳۹)
{12}حضرت سیّدنا ابن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے: رسول اللہ
1…یعنی جب دوبارہ باندھنے کے ارادے سے ضرورت کی بنا پر عمامہ شریف اتارے تو ہر پیچ کھولنے پر ایک گناہ معاف کیا جائے۔