Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
83 - 479
وَسَلَّم گاہ عِمَامَۂ بے کُلَاہ مِیپَوشِید وَ گاہ بَاکُلَاہ وَ گاہ کُلَاہ بے عِمَامَہ یعنی سرکارِ مدینہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم بعض اوقات بغیر ٹوپی کے عمامہ شریف باندھ لیا کرتے، کبھی ٹوپی پر عمامہ مبارک باندھتے تو کبھی کبھار صرف ٹوپی بھی زیبِ سر فرما لیا کرتے تھے۔ (شرح سفر السعادۃ ، ص ۴۳۶) میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یاد رکھئے اگرچہ ٹوپی کے بغیر عمامہ باندھنا بھی جائز ہے لیکن ٹوپی پر عمامہ شریف باندھنا افضل ہے جیسا کہ حضرت علّامہ مناوی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی نے اس کی صراحت فرمائی ہے۔ 
عمامے کے ہر پیچ پر نیکی 
{10} حضرت سیّدنا مُعاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم نے فرمایا: عمامے عرب کے تاج ہیں تو عمامہ باندھو تمہاری بردباری (قوتِ برداشت) میں اضافہ ہو گا اور جو عمامہ باندھے اسے ہر پیچ کے بدلے ایک نیکی عطا ہو گی اور جب ( دوبارہ پہننے کے ارادے سے) اتارے تو ہر پیچ کھولنے پر ایک گناہ مٹادیا جائے۔ (کنز العمال، کتاب المعیشۃ والعادات،فرع فی العمائم،الجز :۱۵، ۸/۱۳۳، حدیث:۴۱۱۳۸ مختصراً) 
	
میرے آقا اعلیٰ حضرت ، امام اہلِ سنّت، شاہ احمد رضا خان عَلَیہ رَحمَۃُ الرَّحمٰن  اس روایت کو یوں نقل فرماتے ہیں : عمامے عرب کے تاج ہیں تو عمامہ