Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
82 - 479
 کی شرح میں فرماتے ہیں کہ عمامہ ٹوپی پر باندھا جائے یا صرف سر پر، عمامے کی سنّت ادا ہو جائے گی اگرچہ افضل ٹوپی پر ہی ہے۔ اس بات کا بھی خیال رہے کہ عمامے کی لمبائی اور چوڑائی میں اپنے زمانے اور علاقے کے عمامہ پہننے والے لوگوں کا خیال کرے کیونکہ عُرف و عادت سے زیادہ (بڑا عمامہ) باندھنا مکروہ ہے۔ (فیض القدیر، حرف العین، ۴/۵۱۵، تحت الحدیث: ۵۷۲۵) 
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بغیر ٹوپی کے عمامہ شریف باندھنا بھی جائز ہے اور یہ ہمارے پیارے پیارے آقا  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہ وَسَلَّم سے ثابت بھی ہے جیسا کہ حضرت سیّدنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہُما بیان فرماتے ہیں : کَانَ یَلْبَسُ القَلَانِسَ تَحتَ العَمَائِمِ وَبِغَیْرِ الْعَمَائِمِ وَ یَلْبَسُ العَمَائِم بِغَیرِالقَلَانِسِ یعنی رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّم عمامہ شریف کے نیچے ٹوپی پہنتے تھے اور عمامہ کے بغیر ٹوپی اور ٹوپی کے بغیر عمامہ شریف بھی پہنتے تھے۔ (کنز العمال، کتاب الشمائل، قسم الاقوال، الجز:۷، ۴/۴۶، حدیث: ۱۸۲۸۲، تاریخ الخمیس فی احوال انفس نفیس ، الفصل الاول فی المتفرقات ، واما لباسہ وثیابہ ومتاعہ علیہ السلام ، ۲/۱۹۰) 
	اسی طرح خَاتَمُ المُحَدِّثین، حضرت علّامہ شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلوی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : آں حَضرَت صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَ اٰلہ