مسلمانوں کی نشانی اور علامت ہیں یعنی جیسے تاج بادشاہوں کی نشانی ہوتے ہیں اسی طرح عمامے مسلمانوں کی نشانی ہیں۔
(فیض القدیر، حرف الھمزۃ، ۱/۸۹، تحت الحدیث: ۳۰ملتقطًا)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس حدیث پاک سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عمامے نہ صرف عربوں کے تاج ہیں بلکہ تمام مسلمانوں کے تاج ہیں لہٰذا ہم سب کو چاہیے کہ ان (عماموں ) میں اپنی عزت و آبرو سمجھیں اور ان پر مُدَاوَمَت (ہمیشگی) اختیار کریں۔
ٹوپی اور عمامہ
{9}حضرت سیّدنا رُکانہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم نے فرمایا: اَ لْعِمَامَۃُ عَلَی القَلَنْسُوَۃِ فَصْلٌ مَّابَیْنَنَا وَبَیْنَ المُشْرِکِینَ یُعْطٰی یَوْمَ القِیَامَۃِ بِکُلِّ کَوْرَۃٍ یُّدَوِّرُہَا عَلٰی رَاْسِہ نُوراً یعنی ٹوپی پر عمامہ باندھنا ہمارے اور مشرکین کے درمیان اِمتیازی علامت ہے، عمامہ باندھنے والے (مسلمان) کو اپنے سر پر باندھے جانے والے ہر پیچ کے بدلے قیامت کے دن ایک نور عطا کیا جائے گا۔ (کنز العمال، کتاب المعیشۃ والعادات، فرع فی العمائم، الجز :۱۵، ۸/۱۳۲، حدیث: ۴۱۱۲۶)
حضرت علامہ عبد الرء وف مناوی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی اس حدیثِ پاک