Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
80 - 479
ممتاز کر دیتے ہیں (اسی طرح عمامہ بھی عام لوگوں سے ممتاز کر دیتا ہے )۔ 
 (فیض القدیر، حرف العین، ۴/۵۱۵، تحت الحدیث: ۵۷۲۳) 
{7}حضرت سیّدنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم نے حضرت سیّدنا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْھَہُ الکَرِیم کے سر پر اپنا عمامہ جس کا نام آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم نے ’’سَحاب‘‘ رکھا تھا وہ باندھا تو فرمایا: اے علی! ’’عمامے عرب کے تاج ہیں۔‘‘ (کنز العمال، کتاب المعیشۃ والعادات، آداب التعمم، الجز : ۱۵، ۸/۲۰۵، حدیث: ۴۱۹۰۵ مختصراً) 
عمامے مسلمانوں کے تاج ہیں 
{8}امیر المؤمنین حضرت سیّدنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْھَہُ الکَرِیم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم نے فرمایا: مسجدوں میں بغیر عمامے اور عمامے باندھ کر آیا کرو اس لئے کہ عمامے مسلمانوں کے تاج ہیں۔ (کنزالعمال، کتاب المعیشۃ والعادات، فرع فی العمائم، الجز: ۱۵، ۸/۱۳۳، حدیث:۴۱۱۳۵) 
 	حضرت علامہ عبد الرء وف مناوی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں : اس حدیث پاک کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ممکن ہو مسجد میں آؤ ، چاہے ٹوپی پہن کر یا سربند اور عمامہ شریف باندھ کر اور (عمامہ نہ ہونے کی وجہ سے) جمعہ اور جماعت کو ہرگز ترک نہ کرو۔ مزید فرماتے ہیں کہ ’’ایک اور روایت میں ہے  (عمامے )