Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
79 - 479
باب فی الملابس ،فصل فی العمائم ، ۵/۱۷۵، حدیث: ۶۲۶۰، کنز العمال، کتاب المعیشۃ والعادات، فرع فی العمائم، الجز :۱۵، ۸/۱۳۳، حدیث: ۴۱۱۲۸) 
	حضرت علامہ عبد الرء وف مناوی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’اہلِ عرب کے لئے عمامے تاجِ شاہی کی حیثیت رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ دیہات میں عماموں والے تھوڑے ہی ہوتے ہیں اکثر لوگ ننگے سر یا ٹوپی پہنتے ہیں۔‘‘ 
(فیض القدیر، حرف الہمزۃ، ۱/۷۰۹، تحت الحدیث:۱۱۴۳ملخصًا) 
{6}امیر المؤمنین حضرت سیّدنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْھَہُ الکَرِیم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم نے فرمایا اَلعَمائِمُ تِیجَانُ العَرَب(1) یعنی عمامے عرب کے تاج ہیں۔ 
(جامع صغیر ،حرف العین، الجز الثانی، ص ۳۵۳، حدیث:۵۷۲۳ مختصراً) 
	حضرت علامہ عبد الرء وف مناوی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی اس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں : عماموں کو تاج اس لئے فرمایا کہ اس میں عزت ، خوبصورتی ، ہیبت اور وقار ہے، جیسا کہ بادشاہوں کے تاج انہیں دوسروں سے 

1…امام جلال الدین سیوطی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی نے یہ حدیث نقل کرنے کے بعد ’’صح‘‘ کا لفظ لکھا ہے جو صحیح کا مُخَفَّف ہے، یعنی ان کے نزدیک یہ حدیث ’’صحیح‘‘ ہے۔