پیشانی چھپ جائے) اس نے عمامہ باندھا تو اس کے حُسن میں اور اضافہ ہو گیا بالآخر آپ نے اسے بصرہ بھیج دیا۔
(طبقات ابن سعد ، باب ذکر استخلاف عمر، ۳/۲۱۶، ملتقطاً)
اسی طرح امیر المؤمنین حضرت سیّدنا عثمان ذُوالنُّورین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے متعلق علامہ احمد بن محمد اُندلُسی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی نقل فرماتے ہیں کہ اَجمَلُ النَّاسِ اِذَا اعْتَمَّ یعنی آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ جب عمامہ شریف باندھتے تو سب سے زیادہ حسین و جمیل نظر آتے۔
(عقد الفرید ، کتاب العسجدۃ الثانیۃ ، باب نسب عثمان و صفتہ، ۵/۳۶)
مُجھے لگتا ہے وہ میٹھا،مُجھے لگتا ہے وہ پیارا
عِمامہ سَر پہ، زُلفیں اور داڑھی جو سجاتا ہے
عمامے تاج ہیں
{5} حضرت سیّدنا اَ بُو المَلِیح رَحمۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اپنے والد سے روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اِعْتَمُّوا تَزْدَادُوا حِلْماً وَ العَمائِمُ تِیجَانُ العَرَب یعنی عمامہ باندھو تمہاری بردباری (قوتِ برداشت) میں اضافہ ہوگا اور عمامے عرب کے تاج ہیں۔ یہی حدیث حضرت سیّدنا ابن عبا س رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے بھی مروی ہے۔ (شعب الایمان،