{3}حضرت سیّدنا اُسامہ بن عُمیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مرفوعاًروایت ہے وَاعْتَمُّوا تَحلِمُوا یعنی عمامے باندھو بُردبار ہو جاؤ گے۔ (الدعامۃ فی احکام سنۃ العمامۃ، ص۱۰ مختصراً)
عمامہ شریف حسن و جمال کا ذریعہ
{ 4}حضرت علامہ شہاب الدین محمد اَلاَبشِیہِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی روایت نقل فرماتے ہیں : تَعَمِّمُوا تَزدَادُوا جَمَالاً یعنی عمامے باندھو! تمہارے حسن و جمال میں اضافہ ہو گا۔
(المستطرف، الباب السادس والاربعون فی الخلق وصفاتہم الخ، ۲/۵۲)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واقعی عمامہ شریف باندھنے سے حسن و جمال میں اضافہ ہوجاتاہے جیسا کہ حضرت سیّدنا عبداللہ بن بُرَیدَہ اَسلَمِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ایک رات حضرت سیّدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ایک گھر کے قریب سے گزرے تو ایک عورت نے اَشعار میں ایک شخص (نصر بن حجاج جس کا تعلق بنی سُلَیم سے تھا) کا ذکر کیا ،جو کہ بہت حسین و جمیل تھا۔ آپ نے صبح اسے دربار میں طلب فرمایا ،یہ خوبصورت بالوں اور حسین چہرے والا شخص تھا۔ آپ نے اسے بال کٹوانے کا حکم فرمایا اس نے کٹوا دیئے مگر اس کی پیشانی کھل جانے کے باعث اور حسین لگنے لگا آپ نے اسے عمامہ شریف باندھنے کا حکم دیا (تاکہ اس کی