تمہارا حِلْم بڑھے گا۔ (معجم کبیر، عبد اللہ بن العباس ، ۱۲/۱۷۱، حدیث:۱۲۹۴۶) یہی روایت سیّدنا اُسامہ بن عُمیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے بھی مروی ہے ۔ (کنز العمال، کتاب المعیشۃ والعادات، فرع فی العمائم،الجز: ۱۵، ۸/۱۳۳، حدیث: ۴۱۱۲۷)
حضرت علامہ عبد الرء وف مناوی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : (عمامہ باندھو) تمہارا حلم بڑھے گا اور تمہارا سینہ کشادہ ہو گا کیونکہ ظاہری وضع قطع کا اچھا ہونا انسان کو سنجیدہ اور باوقار بنا دیتا ہے نیزغصے ، جذباتی پن اورخسیس حرکات سے بچاتا ہے ۔
(فیض القدیر، حرف الہمزۃ، ۱/۷۰۹، تحت الحدیث:۱۱۴۲)
حِلم ایک بے بہا دولت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بلا شبہ حِلم(بُردباری) ایک ایسی بے بہا دولت ہے کہ لاکھوں بلکہ اربوں روپے میں بھی خریدی نہیں جا سکتی لیکن نبیٔ اکرم ، نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّمپر قربان کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اپنی امت پر شفقت و احسان فرما تے ہوئے انتہائی آسان عمل ارشاد فرمادیا کہ جس کی بدولت ہم غصے اور جذباتی پن سے نجات پا کر اپنے اندر قوتِ برداشت پیدا کر سکتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت علامہ محمد بن جعفر کَتَّانی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی حدیث نقل فرماتے ہیں کہ