Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
75 - 479
سے زیادہ بھی جائز ہے۔ عمامہ یا چادر کے پلّو ریشم سے بُنے ہوں تو چونکہ بانا ریشم کا ہونا ناجائز ہے، لہٰذا یہ پلّو بھی چار اُنگل تک کا ہی ہونا چاہیے زیادہ نہ ہو۔ (بہارِ شریعت، ۳/۴۱۱) مزید فرماتے ہیں : ٹوپی میں لیس لگائی گئی یا عمامہ میں گوٹا لچکا لگایا گیا، اگر یہ چار اُنگل سے کم چوڑا ہے جائز ہے ورنہ نہیں۔ (بہارِ شریعت، ۳/۴۱۲) 
عمامہ شریف کے فضائل (احادیث کی روشنی میں ) 
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عُشّاق کیلئے تو اتنی ہی بات کافی ہے کہ عمامہ شریف نبیٔ اکرم، شفیعِ مُعَظَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کی سُنّت ہے اگرچہ عمامہ شریف کی فضیلت میں کثیر احادیث وَارِد ہیں آپ کی ترغیب و تَحرِیص کے لئے ’’حضور نے سبز عمامہ بھی باندھا ‘‘کے 23 حروف کی نسبت سے عمامہ شریف کے فضائل پر مشتمل 23 روایات درج ذیل ہیں : 
{1}حضرت سیّدنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُما کے پاس ایک شخص آیا اور سوال کیا: ’’اے ابوعبدالرحمن کیا عمامہ باندھنا سنّت ہے ؟‘‘ آپ نے فرمایا: ہاں (سنّت ہے)۔ (عمدۃ القاری ، کتاب اللباس، باب العمائم، ۱۵/۲۲) 

بُردبار بننے کا آسان عمل 
{2}حضرت سیّدنا ابن عبا س رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُما روایت فرماتے ہیں :رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے فرمایا: اِعْتَمُّوا تَزْدَادُوا حِلْمًا یعنی عمامہ باندھو