کپڑے) کا عمامہ شریف باندھے تشریف لائے۔ (عمدۃ القاری ، کتاب الہبۃ و فضلہا، باب قبول الہدیۃ من المشرکین، ۹/۴۴۰، تحت الحدیث:۲۶۱۵)
مردوں کو ریشمی عمامہ منع ہے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یاد رہے ہمارے لئے ریشمی عمامہ باندھنا جائز نہیں ہے کیونکہ نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے مردوں کو ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے۔
(ابن ماجہ، کتاب اللباس، باب کراہیۃ لبس الحریر، ۴/۱۵۵، حدیث: ۳۵۸۹)
بعض دوسری روایات سے ریشم کی تھوڑی سی مقدار کے بارے میں جو رعایت ثابت ہوتی ہے اس کا بیان کرتے ہوئے خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، صَدرُالشَّریعہ، بدرُالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ الْقَوِی نقل فرماتے ہیں : ’’مردوں کے کپڑوں میں ریشم کی گوٹ چار اُنگل تک کی جائز ہے اس سے زیادہ ناجائز، یعنی اس کی چوڑائی چار اُنگل تک ہو، لمبائی کا شمار نہیں۔ اسی طرح اگر کپڑے کا کنارہ ریشم سے بُنا ہو جیسا کہ بعض عمامے یا چادروں یا تہبند کے کنارے اس طرح کے ہوتے ہیں ، اس کا بھی یہی حکم ہے کہ اگر چار انگل تک کا کنارہ ہو تو جائز ہے، ورنہ ناجائز۔ (درمختارو ردالمحتار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی اللبس،۹/۵۸۰) یعنی جبکہ اس کنارہ کی بناوٹ بھی ریشم کی ہو اور اگر سوت کی بناوٹ ہو تو چار اُنگل