چبھ گئی، اِس طرح تم اِس چھوٹی مصیبت کی و جہ سے ایک بہت بڑی مصیبت (یعنی زمین میں دھنسنے ) سے بچ گئے ہو ۔‘‘
پھر حضرت سیّدنا جبرائیل عَلَیہِ السَّلاَم نے اپنا ہاتھ اُس زخمی لڑکے کے پاؤں پر پھیرا تو اُس کا زخم فوراً ٹھیک ہو گیا۔ پھر آپ عَلَیہِ السَّلاَم نے اپنا ہاتھ اس بر تن پر پھیرا جس میں پانی بالکل ختم ہوچکا تھا تو ہاتھ پھیر تے ہی وہ بر تن پانی سے بھر گیا اور جب کھانے والے بر تن پر ہاتھ پھیرا تو وہ بھی کھانے سے بھر گیا ۔ پھر حضرت سیّدنا جبرائیل عَلَیہِ السَّلاَم نے حضرت سیّدنا لقمان رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہ، آپ کے بیٹے اور آپ کی سواریوں کو سامان سمیت اٹھایا اور کچھ ہی دیر میں آپ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہ اپنے بیٹے اور سارے سامان کے ساتھ اپنے گھر میں موجود تھے حالانکہ آپ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہ کا گھر اس جنگل سے کافی دن کی مسافت پر تھا۔
(عیون الحکایات ، الحکایۃ الثانیۃ و التسعون الخ، ص ۱۰۹)
جبریلِ امین کا ریشمی عمامہ
حضرت علامہ بدرالدین عینی حنفی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی نے اِستِیعَاب کے حوالے سے حضرت سیّدنا جبریلِ امین عَلَیہِ السَّلام کے ریشمی عمامے کا ذکر بھی کیا ہے چنانچہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیّدنا سَعد بن مُعاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے جنازے میں حضرت سیّدنا جبریلِ امین عَلَیہِ السَّلام اِستَبرَق (یعنی موٹے ریشمی