سفید لباس زیب تن کئے، سفید عمامہ سر پر سجائے، چتکبرے گھوڑے پر سوار آپ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہ کی طرف بڑی تیزی سے بڑھا چلا آرہا ہے۔ آپ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہ اس سوار کو اپنی طرف آتا دیکھتے رہے یہاں تک کہ وہ آپ کے بالکل قریب ہوگیا ،پھر وہ سوار اچانک نظروں سے اوجھل ہو گیا۔
پھر ایک آواز سنائی دی: ’’کیا تم ہی لقمان ہو؟ ‘‘آپ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہ نے فرمایا : ’’جی ہاں ! میں ہی لقمان ہوں۔‘‘ پھر آواز آئی:’’ کیا تم حکیم ہو ؟‘‘ آپ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہ نے فرمایا:’’ مجھے ہی لقمان حکیم کہا جاتاہے۔‘‘ پھر آواز آئی: ’’ تمہارے اس نا سمجھ بیٹے نے تم سے کیا کہا ہے ؟‘‘ حضرت سیّدنا لقمان رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہ نے فرمایا:’’ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندے! تو کون ہے ؟ ہمیں صرف تیری آواز سنائی دے رہی ہے اور توخود نظر نہیں آرہا۔‘‘ پھر آواز آئی:’’میں جبرائیل (عَلَیہِ السَّلاَم) ہوں اور مجھے صرف انبیاء کرام عَلَیہِمُ السَّلاَم اور مقرّب فرشتے ہی دیکھ سکتے ہیں ، اس وجہ سے میں تجھے نظر نہیں آرہا ، سنو! میرے رب عَزَّوَجَلَّ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں فلاں شہر اور اس کے آس پاس کے لوگو ں کو زمین میں دھنسا دوں۔ مجھے خبر دی گئی ہے کہ تم دونوں بھی اُسی شہر کی طرف جا رہے ہو تو میں نے اپنے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ سے دعا کی کہ وہ تمہیں اس شہر میں جانے سے روکے۔ لہٰذا اُس نے تمہیں اِس آزمائش میں ڈال دیاا ور تیرے بیٹے کے پاؤں میں ہڈی