Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
71 - 479
میں تنہا رہ گئے ہیں ، اگر آپ مجھے یہیں چھوڑ کر چلے جائیں گے تو آپ کو میری اس مصیبت کی وجہ سے بہت رنج وغم لاحِق رہے گا ، اور اگر آپ یہیں میرے ساتھ رہیں گے تو ہم دو نوں یہاں اس ویرانے میں بھوکے پیاسے مر جائیں گے ، اب آپ خود ہی بتائیں کہ اس مصیبت میں میرے لئے کیا بہتری ہے ؟‘‘
	بیٹے کی یہ باتیں سن کر حضرت سیّدنا لقمان رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہ نے فرمایا:’’ اے میرے بیٹے! میرا رونا اس وجہ سے تھا کہ میں ایک باپ ہوں اور ہر باپ کااپنی اولاد کے دکھ درد کی وجہ سے غمگین ہوجانا ایک فِطری عمل ہے، باقی رہی یہ بات کہ اس مصیبت میں تمہارے لئے کیا بھلائی ہے؟ تو ہو سکتا ہے اس چھوٹی مصیبت میں تجھے مبتلا کر کے تجھ سے کوئی بہت بڑی مصیبت دو ر کردی گئی ہو ، اور یہ مصیبت اس مصیبت کے مقابلے میں چھوٹی ہو جو تجھ سے دور کر دی گئی ہے۔ آپ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہ کا بیٹا خاموش ہو گیا۔ 
	 پھر حضرت سیّدنا لقمان رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہ نے سامنے نظر کی تو اب وہاں نہ تو دھواں تھا اور نہ ہی سایہ وغیرہ ، آپ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہ دل میں کہنے لگے: ’’میں نے ابھی تو اس طر ف دھواں او رسایہ دیکھا تھا لیکن اب وہ کہاں غائب ہو گیا ، ہوسکتا ہے کہ ہمارے پروردگار عَزَّوَجَلَّ نے ہماری مدد کے لئے کسی کو بھیجا ہو، ابھی آپ اسی سوچ بِچار میں تھے کہ آپ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہ کو دور ایک شخص نظر آیا جو