آئے اور پیدل ہی چلنے لگے۔ چلتے چلتے حضرت سیّدنا لقمان رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہ کو بہت دور ایک سایہ اور دھواں سا نظر آیا، آپ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہ نے گمان کیا کہ وہاں شاید کوئی آبادی ہے ، اور یہ کسی درخت وغیرہ کاسایہ ہے، چنانچہ آپ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہ اسی طرف چلنے لگے ۔ راستے میں آپ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہ کے بیٹے کو ٹھوکر لگی اور اس کے پاؤں میں ایک ہڈی اس طرح گھسی کہ وہ پاؤں کے تلوے سے پار ہوکر ظاہر قدم تک نکل آئی آپ َرحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہ کابیٹادرد کی شدت سے بے ہوش ہو کر زمین پر گرپڑاآپ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہ نے اسے اپنے سینے سے چمٹا لیا، پھر اپنے دانتوں سے ہڈّی نکالنے لگے۔ کافی مُشَقَّت کے بعد بالآخر وہ ہڈی نکل گئی۔
بیٹے کی یہ حالت دیکھ آپ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہ شَفقَت ِپِدرَانَہ کی وجہ سے رونے لگے۔ آپ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہ نے اپنے عمامے سے کچھ کپڑا پھاڑا اور اسے زخم پر باندھ دیا۔ حضرت لقمان عَلَیہِ رَحمَۃُ الرَّحمٰن کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو جب اُن کے بیٹے کے چہرے پر گرے تو اسے ہوش آ گیا، جب اس نے دیکھا کہ میرے والد رو رہے ہیں توکہنے لگا: ’’اے ابا جان! آپ تو مجھ سے فرما رہے تھے کہ ہر مصیبت میں بھلائی ہے ۔لیکن اب میر ی اس مصیبت کو دیکھ کر آپ رونے کیوں لگے ؟‘‘ اور یہ مصیبت میرے حق میں بہتر کس طرح ہوسکتی ہے؟ حالانکہ ہماری کھانے پینے کی تمام اشیاء ختم ہوچکی ہیں ، اور ہم یہاں اس ویران جنگل