میرے بس میں نہیں کہ میں ہر مصیبت کو اپنے لئے بہتر سمجھوں ، میرا یقین ابھی اتنا پختہ نہیں ہوا ۔‘‘
جب حضرت سیّدنا لقمان حکیم عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ الرَّحِیم نے اپنے بیٹے کی یہ بات سنی تو فرمایا:’’ اے میرے بیٹے ! اللہ عَزَّوَجَلَّ نے دنیامیں وقتاً فوقتاً انبیاء کرام عَلَیہِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلاَم مَبعُوث فرمائے ، ہمارے زمانے میں بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے نبی عَلَیہِ السَّلَام کو مبعوث فرمایا ہے آؤ، ہم اس نبی عَلَیہِ السَّلاَم کی صحبت بابر کت سے فیضیاب ہونے چلتے ہیں ،ان کی باتیں سن کر تیرے یقین کو تقویت حاصل ہو گی۔‘‘ آپ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہ کا بیٹا اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نبی عَلَیہِ السَّلاَم کی بارگاہ میں حاضر ہونے کے لئے تیار ہو گیا ۔
چنانچہ ان دونوں نے اپنا سامانِ سفر تیار کیا، اور خچروں پر سوار ہو کر اپنی منزل کی طر ف روانہ ہو گئے ۔ کئی دن ،رات انہوں نے سفر جاری رکھا، راستے میں ایک ویران جنگل آیا وہ اپنے سامان سمیت جنگل میں داخل ہوگئے ، اللہ تعالیٰ نے ان کو جتنی ہمت دی اتنا انہوں نے جنگل میں سفر کیا ، پھر دو پہر ہو گئی ، گرمی اپنے زور پر تھی، گرم ہوائیں چل رہی تھیں ، دَرِیں اَثناء (یعنی اسی دوران) ان کا پانی اور کھانا وغیرہ بھی ختم ہوگیا ، خچر بھی تھک چکے تھے، پیاس کی شدت سے وہ بھی ہانپنے لگے، یہ دیکھ کر حضرت لقمان رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہ اور آپ کا بیٹا خچروں سے نیچے اتر