Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
67 - 479
 تَعَالٰی عَنْہ) کو دے دیں۔ (سیرت حلبیہ، باب ذکر مغازیہ ، غزوۃ تبوک، ۳/۲۰۰) 
جبریلِ امین سیاہ عمامے میں 
	حضرت سیّدنا سعید بن جُبیَر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : جس دن فرعون غرق ہوا اس دن حضرت سیّدنا جبریلِ امینعَلَیہِ السَّلام سیاہ عمامہ شریف باندھے ہوئے تھے۔ (درِ منثور ،پ ۱۱، یونس، تحت الآیۃ: ۹۰، ۴/۳۸۷)
 	حضرت سیّدنا عبد العزیز بن عبداللہ مَاجِشُون رَحمۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ روایت فرماتے ہیں : حضرت سیّدنا جبریل عَلَیہِ السَّلام غزوۂ خندق کے روز گھوڑے پر سوار شہنشاہِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلہ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے ۔ آپ نے سیاہ عمامہ شریف باندھ رکھا تھا جس کا شملہ آپ کے کندھوں کے درمیان تھا نیز آپ کے سامنے والے دانتوں پر (سفر کی وجہ سے ) کچھ گرد کے آثار بھی تھے۔
 (طبقات ابن سعد، غزوۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم إلی بنی قریظۃ ۲/۵۸) 

جبریلِ امین زرد عمامے میں 
	 حضرت سیّدنا جبریل عَلَیہِ السَّلام غزوۂ بدر میں زرد (پیلے) رنگ کا عمامہ باندھ کر تشریف لائے تھے چنانچہ حضرت سیّدنا عُروَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیّدنا جبریلِ امین عَلَیہِ السَّلام بدر کے روز حضرت سیّدنا زبیر بن عَوَّام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرح زرد عمامہ باندھ کر آئے تھے۔ (معجم کبیر،