سیّد الملائکہ سبز عمامے میں
تاجدارِ رسالت ، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت، پیکرِ جُودو سخاوت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسلَّم نے غزوۂ تبوک کے بعد صحابۂ کرام عَلَیھِمُ الرِّضوَان میں مالِ غنیمت اس طرح تقسیم فرمایا کہ سب کو ایک ایک اور حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجھَہُ الْکَرِیم کو دو حصے عطا فرمائے۔ حضرت سیّدنا زَائِدَہ بِن اَکوَع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کھڑے ہو کر (اس فعل کی حکمت دریافت کرنے کے لئے ) عرض کی یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کیا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی جانب سے کوئی وحی نازل ہوئی ہے یا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلہ وَسَلَّم نے خود ہی یہ فیصلہ فرمایا ہے ؟ تو نبی ٔکریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے صحابۂ کرام عَلَیھِمُ الرِّضوَان سے فرمایا: ’’میں تمہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم نے لشکر کے دائیں جانب ایک ایسے شخص کو دیکھا تھا کہ جو سفید پیشانی اور سفید ٹانگوں والے گھوڑے پر سوار تھا اور اس نے سبز عمامہ باندھ رکھا تھا جس کے دو شملے اس کے کندھوں کے درمیان لٹک رہے تھے ، اس کے ہاتھ میں ایک نیزہ بھی تھا جس سے اس نے دشمن کے دائیں جانب والے لشکر پر حملہ کر کے اسے پسپا کر دیا تھا؟‘‘ صحابۂ کرام عَلَیھِمُ الرِّضوَان نے عرض کی جی ہاں ایسا ہی تھا۔ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: وہ جبریلِ امین(عَلَیہِ السَّلام) تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ مالِ غنیمت میں سے میرا حصہ (حضرت) علی (رَضِیَ اللہُ