بارے میں پوچھا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہ وَسلَّم نے فرمایا : کیا تم نے اسے دیکھا ہے ؟ میں نے عرض کی: جی ، تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلہ وَسلَّم نے فرمایا: وہ جبریلِ امین تھے جو مجھے بنی قُریظَہ کی طرف جانے کا کہنے آئے تھے۔ (سبل الھدی والرشاد، جماع ابواب سیرتہ صلی اللہ علیہ وسلم فی لباسہ الخ ، الباب الثانی فی العمامۃ والعذبۃ الخ، ۷/۲۷۵ واللفظ لہ، معجم الاوسط، باب المیم، من اسمہ مقدام، ۶/۲۹۳، حدیث:۸۸۱۸)
جبریلِ امین کا سبز سبز عمامہ
حضرت سیّدنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہُما سے مروی ہے کہ حضرت سیّدنا جبریل عَلَیہِ السَّلام نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں یوں حاضر ہوئے کہ عَلَیہِ عِصَابَۃٌ خَضرَائُ یعنی آپ عَلَیہِ السَّلام نے سبز رنگ کا عمامہ شریف باندھا ہوا تھا جس پر کچھ غبار تھا۔ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلہ وَسَلَّم نے ان سے پوچھا: آپ کے عمامے پر غبار کیسا ہے؟ حضرت سیّدنا جبریلِ امین عَلَیہِ السَّلام نے عرض کی: میں کَعبۃُ اللہ کی زیارت کو حاضر ہوا تھاتو رکنِ یمانی پر فرشتوں کا اِزدِحام تھا یہ ان کے پروں سے اڑنے والا غبار ہے۔ (اخبار مکہ للازرقی، ذکر زیارۃ الملائکۃ البیت الحرام الخ، ص۶، الحبائک فی اخبار الملائک ، ص ۱۸۶ واللفظ لہ)