فرمایا ہے چنانچہ ارشادِ رَبَّانی ہے:
ثُمَّ اَنۡزَلَ اللہُ سَکِیۡنَتَہٗ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ وَعَلَی الْمُؤْمِنِیۡنَ وَاَنۡزَلَ جُنُوۡدًا لَّمْ تَرَوْہَا وَعَذَّبَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ وَ ذٰلِکَ جَزَآءُ الْکٰفِرِیۡنَ ﴿۲۶﴾
ترجمۂ کنزالایمان: پھراللہ نے اپنی تسکین اتاری اپنے رسول پر اور مسلمانوں پر اور وہ لشکر اتارے جو تم نے نہ دیکھے اور کافروں کو عذاب دیا اور منکروں کی یہی سزا ہے۔
(پ ۱۰، التوبۃ:۲۶)
حضرت صَدرُالافاضل سیّد محمد نعیم الدین مرادآبادی عَلَیہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : (لشکر سے مراد وہ ) فرشتے (ہیں ) جنہیں کُفّار نے ابلق گھوڑوں پر سفید لباس پہنے ، عمامہ باندھے دیکھا ، یہ فرشتے مسلمانوں کی شوکت بڑھانے کے لئے آئے تھے۔ (خزائن العرفان، پ ۱۰، التوبۃ، تحت الآیۃ:۲۶، ص۳۵۹) غزوۂ حُنین کے دن فرشتے سرخ اور سبز عمامے سجائے تشریف لائے تھے چنانچہ
حضرت علامہ محمد بن سعد عَلَیہِ رَحْمَۃُ اللہِ الاَحَد نقل فرماتے ہیں : غزوۂ ٔحُنین کے روز فرشتوں کی نشانی سرخ عمامے تھی جن کے شملے انہوں نے کندھوں کے درمیان لٹکا رکھے تھے۔
(طبقات ابن سعد، غزوۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم الی حنین، ۲/۱۱۵)